رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
قِصاص حلال۔
اِسلام نے مظلوم کو یہود کی شریعت کے مطابق قِصاص کا حق دیا ہے، تاکہ معاشرے میں امن، عدل اور جان کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ نے قتل کو حرام فرمایا ہے، لیکن اگر یہ عظیم گناہ سرزد ہو جائے تو قِصاص حلال (بلکہ فرض) قرار دیا گیا ہے۔ البتہ معاف کر دینا اور خون بہا لے لینا بہتر ہے۔ سورۃ المائدہ میں فرمایا گیا ہے کہ جان کی حرمت اتنی عظیم ہے کہ ایک جان کو ناحق قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔
قرآن کا مقصد صرف سزا دینا نہیں، بلکہ معاشرے میں انصاف قائم کرنا اور ظلم کو روکنا ہے۔ قِصاص کا نظام اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کوئی مجرم سزا سے نہ بچے، اور ساتھ ہی معافی اور خون بہا کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے تاکہ انتقام کی آگ بجھ سکے اور صلح جوئی کا راستہ کھلا رہے۔ لہٰذا قِصاص محض بدلہ نہیں، بلکہ ایک متوازن نظامِ انصاف ہے جو عدل، رحم اور معاشرتی استحکام کو یکجا کرتا ہے۔
وَكَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِيۡهَاۤ اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِۙ وَالۡعَيۡنَ بِالۡعَيۡنِ وَالۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَالۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّۙ وَالۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌؕ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ؕ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
Q-05:45اور ہم نے (ان یہودیوں پر تورات میں) لکھا کہ: جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور زخموں کا برابر بدلہ ہے۔ پھر اگر معاف کر دے تو اُس کے لیے کفّارہ ہے۔ اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو ایسے لوگ ظالم ہیں۔
فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴿۴۰﴾ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سَبِيۡلٍؕ ﴿۴۱﴾
Q-42:40-41جو معاف کر دے اور صلح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (40) اور جو ظلم ہوجانے کے بعد بدلہ لے تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔ ﴿41﴾
قتل کا قِصاص فرض (حلال) ہے۔
خدا نے بے گناہ مومن کا قتل سختی سے حرام فرمایا ہے، اور اس کے بدلے میں مقتول کے وارث کو قِصاص (بدلہ) لینے کا حق دیا ہے۔ یہ حق وہ اس ملک میں قانونی طور پر طلب کر سکتے ہیں جہاں قرآن کی شریعت کے مطابق نظامِ عدل قائم ہو۔ اور اگر وارث معاف کر دیں، تو اس صورت میں قاتل کے ذمہ خون بہا (دیت) ادا کرنا لازم ہے، جو دستور اور انصاف کے مطابق پورا کیا جائے۔
وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سَبِيۡلٍؕ ﴿۴۱﴾
Q-42:41اور جو ظُلم ہوجانے کے بعد بدلہ لے تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الۡقِصَاصُ فِى الۡقَتۡلٰىؕ الۡحُرُّ بِالۡحُـرِّ وَالۡعَبۡدُ بِالۡعَبۡدِ وَالۡاُنۡثَىٰ بِالۡاُنۡثٰىؕ فَمَنۡ عُفِىَ لَهٗ مِنۡ اَخِيۡهِ شَىۡءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَاَدَآءٌ اِلَيۡهِ بِاِحۡسَانٍؕ ذٰلِكَ تَخۡفِيۡفٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَرَحۡمَةٌ ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰى بَعۡدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۚ ﴿۱۷۸﴾
Q-02:178اے مومنو! قتل کے معاملے میں تم پر قصاص فرض کیا گیا۔ آزاد کے عوض آزاد، غلام کے عوض غلام، اور عورت کے عوض عورت۔ لیکن اگر کسی (قاتِل) کو مقتول کے بھائی کی جانب سے کچھ معاف کر دیا جائے، تو دستور کے مطابق مناسب تعمیل کرو۔ (یعنی خون بہا لو)۔ اور (قاتِل کی طرف سے) احسان کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ یہ تمہارے پروردگار کی رعایت اور رحمت ہے۔ پھر جو اس کے بعد حد سے گزرے، اس کے لیے المناک عذاب ہے۔
وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِىۡ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالۡحَـقِّ ؕ وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا ؕ ﴿۳۳﴾
Q-17:33اور اس جان کو ہرگز قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرمت دی ہے، مگر حق کے ساتھ۔ اور اگر کسی کو ناحق مار دیا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو بدلہ لینے کا اختیار دیا ہے۔
قِصاص میں حد سے تجاوز نہیں۔
جب ظالم ظلم پر آمادہ ہو تو اپنا دفاع کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ اسلام ہر برائی کا بدلہ اس جیسی بُرائی سے دینے کی اجازت دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسلام انسان کو کمزوری، بزدلی اور بے عملی نہیں سکھاتا، بلکہ حق کے تحفظ اور ظلم کے مقابلے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ظالم اپنی زیادتی میں کامیاب ہو جائے، تو پھر قِصاص کا حق قائم ہو جاتا ہے، تاکہ عدل بحال ہو اور مظلوم کے دل کا سکون ہو۔
البتہ اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ قصاص میں حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ ظالم کو صرف اتنی ہی سزا دی جائے کہ جتنا اس نے ظلم کیا تھا۔ اگر زیادتی کی گئی تو وہی مظلوم: اللہ کی نظر میں ظالم بن سکتا ہے اور ظالم پر اضافی سزا کی وجہ سے وہ مظلوم سمجھا جائے گا۔ یہی اللہ کے مقرر کیے ہوئے ضابطے ہیں: عدل بھی، توازن بھی، اور انصاف بھی۔
وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡىُ هُمۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿۳۹﴾ وَجَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثۡلُهَا ۚ ﴿۴۰﴾
Q-42:39-40اور جب لوگوں پر ظُلم ہو، تو اپنا دفاع کریں۔ (39) اور برائی کا بدلہ اس جیسی برائی ہے۔ (40)
وَكَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِيۡهَاۤ اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِۙ وَالۡعَيۡنَ بِالۡعَيۡنِ وَالۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَالۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّۙ وَالۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌؕ ﴿۴۵﴾
Q-05:45اور ہم نے (ان یہودیوں پر تورات میں) لکھا کہ: جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ زخم ہیں۔
وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ﴿۳۳﴾
Q-17:33اور اگر کسی کو ناحق مار دیا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو بدلہ لینے کا اختیار دیا ہے؛ لہٰذا وہ قاتل کے قتل میں حد سے نہ بڑھے۔ ورنہ اسے (اللہ کی طرف سے) مدد حاصل ہوگی.
وَمَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِىَ عَلَيۡهِ لَيَنۡصُرَنَّهُ اللّٰهُ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۶۰﴾
Q-22:60جو شخص مُجرِم سے اُسی طرح بدلہ لیتا ہے، جیسا اُس کے ساتھ کیا گیا، (یہ جائِز ہے) لیکِن اگر اُس مُجرِم پر دوبارہ زِیادتی کی گئی، تو اللہ اس (مُجرِم) کا ساتھ دے گا۔ بیشک اللہ بہت درگزر کرنے والا اور فیاض ہے۔
قِصاص: امن کی ضمانت۔
خُدا فرماتا ہےکہ: قِصاص مومِنوں کی زِندگیوں کے تحفُظ کی ضمانت ہے۔ یہ ظُلم نہیں ہے۔ یہ ایسا قانون ہے، جو جُرم کرنے کی اِجازت ہی نہیں دیتا۔ اِس قانون کے تحت ظُلم کرنے والے کو بھی اُسی ظُلم سے گُزرنا پڑتا ہے۔ اور یہ اِس لِیے تاکہ: معاشرے میں خوفِ خدا، عدل اور امن قائم ہو۔ لوگ جُرم اور گُناہوں کا راستہ چھوڑکر تقوٰی، اصلاح اور راہِ راست کی طرف مائل ہوں۔
عرب ممالک میں جہاں قرآن کے مطابق عدالتیں قائم ہیں وہاں جرائم تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ذرا تصوّر کریں، اگر پوری دنیا کی عدالتیں قرآن کے مطابق قائم ہو جائیں۔ تو شیطان اور اس کے لشکروں کی 90 فیصد شکست یقینی ہے۔
وَلَـكُمۡ فِى الۡقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّٰٓـاُولِىۡ الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾
Q-02:179اور اے عقلمندو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی کا تحفظ ہے، تاکہ تم تقوٰی اختِیار کرو۔
**********